وہ کیا زنبیلِ کوئی بھر رہا ہے
اُسے جب دیکھئے وہ چر رہا ہے

نہیں ہیں اک وہی آپے سے باہر
ہماری تاڑ کا بھی شر رہا ہے

مری رفتار سے چلتا نہیں ہے
تو پھر پیچھا مرا کیوں کر رہا ہے

عجب بجو سا بن کر رہ گیا ہے
جو پیش از عقد شیرِ نر رہا ہے

جسے انسان بننا بھی نہ آیا
وہی تو قوم کا رہبر رہا ہے

سرِ عارض کوئی مکھی ہے چپساں
تُو جس کو تِل سمجھ کر مر رہا ہے

سفارش کا مجھے میرٹ تھا حاصل
اگرچہ مجھ سے وہ بہتر رہا ہے

اُسے قانون ہی گچی سے پکڑے
کہاں اُس کو خدا کا ڈر رہا ہے

نہیں اس جیسا بونگی باز کوئی
تری نظروں میں جو سوبر رہا ہے

ظفر تھاپوں کہاں میں اپنا گریہ
سرِ دیوار تو گوبر رہا ہے

Advertisements