چلے ہو توڑنے عہدِ وفا پھر
تو استعفٰی مرا بھی یہ رہا پھر

تھا لا حاصل گلہء لن ترانی
انہوں نے بے نیازی سے کہا ۔۔۔ پھر ؟

جلوسِ ناشناساں میں سے چُن کر
ترا کتا مجھہی پر بھونکتا پھر

اڑنگی جس سے کھائی از سرِ نو
نکل آیا ہمارا آشنا پھر

نہ باڈی گارڈ کام آئے نہ باڑیں
جو ہونا تھا وہ آخر ہو گیا پھر

ترے ملنے کو یوں برقع نہ پہنا
ترا ابا بھی مجھ کو تاڑتا پھر

وہ مجھ کو بھول جائے غیر ممکن
دغا نہ دے رہا ہو حافظہ پھر

مری درگت بنی ہے کیوں ہمیشہ
میں پھر کدو کھجاتاٌ سوچتا پھر

بریدہ دل کی بابت کیا بتاؤں
وہ ظالم ہاتھ آ کر تاپتا پھر

ہیں واقف کہ مری مٹی ہے چکنی
دکھاتے ہیں وہ مجھ کو آئینہ پھر

مری غزلوں میں دندناتا ہے کیسے
کیا ہے تنگ جس نے قافیہ پھر

Advertisements