اس پہ حیران تیرا سوبر تھا
آئینے میں وہ کون جوکر تھا

حرفِ شیریں کی آرزو تھی عبث
اِس قدر مبتلائے شوگر تھا

جس کے کنسرٹ سے میں آیا ہوں
پاپ سنگر نہیں تھا بندر تھا

گھورتا تھا ہر آتا جاتا ہوا
میرے ہاتھوں میں کالا شاپر تھا

اُتنے گہرے گڑھے میں جا کے گرا
میرا مورال جتنا ہائر تھا

روئے خاتون تھا کوئی چُر مُر
جانے شوہر تھا یا وہ شوفر تھا

کہکشاں مانگتے رہے عاشق
جا بجا راستے میں گوبر تھا

کیسے کیسے چھوہاروں کو ہے گلہ
تیری محفل میں کیوں چقندر تھا

مشتبہ ہو گیا اِسی باعث
دل کا احوال بے گرامر تھا

کیسے آتی حیا بھکاری کو
ملک سارا جہاں گداگر تھا

فائلیں اُڑنے لگ گئیں’ دیکھو !
وہ کوئی کال تھی یا منتر تھا

اُن کی گفتار بھی جلیبی تھی
جس قدر گیسوؤں میں گھنگھر تھا

Advertisements