دیا ادبی فورم کے تحت سولہویں آن لائن ادبی طرحی مشاعرہ بروز جمعہ 25 اکتوبر 2013 کی شب کو کہی گئی میری غزل

اپنی مونچھوں کو دے کے تاؤ کبھی
تاؤ ہم کو نہ یوں دلاؤ کبھی

یوں وفا کا یقین خاک آئے
ساتھ میں دُم بھی تو ہلاؤ کبھی

لے اڑے گی بہو ترا بیٹا
پورے کر دے گی تیرے چاؤ کبھی

بھاگ جائیں گے چھیڑنے والے
اپنے کتے کو ساتھ لاؤ کبھی

ناخدا ! یُوں نہ ہم سے پنگا لے
ڈوب سکتی ہے تیری ناؤ کبھی

تم بھی گا سکتے ہو ‘ حیا کیسی
سرِ بازار ہنہناؤ کبھی

شاک بجلی سے بڑھ کے ہے اس میں
بل جو دیکھو تو بلبلاؤ کبھی

ہم کنہگار کس سبب سے ہوئے
یہ بھی سوچا ہے پارساؤ کبھی؟

نہیں سنتے تو نوکِ خنجر پر
اپنی غزلیں انہیں سناؤ کبھی

نوید ظفرکیانی

Advertisements