فیس بُک میں اردو طنز و مزاح فورم کے زیرِ اہتمام منعقد کردہ ماہانہ طرحی مشاعرہ نمبر 3 برائے ستمبر 2013 میں کہے گئے چند اشعار

گانے وانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
بِلبِلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

یوں محلے میں بہت چن ہیں مگر اے لڑکو !
چن چڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

خودکشی کرنے کے کچھ اور طریقے بھی ہیں
شامیانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

ہم کو غصہ بھی دلائے گا زمانہ اور پھر
تلملانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

غیر سے بزم میں کیوں آپ فری ہوتے پھریں
کھلکھلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

دندناتا رہے کیوں کوچہء جاناں میں کوئی
آنے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

نوش کرنے کے لئے اور بہت کچھ ہو گا
کان کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

بابِ تولید میں مولانا پہ واضح کر دو
کارخانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

مرد و زن کافی ہیں غرقابیء عالم کے لئے
درمیانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

مشتبہ ہو کے نہ رہ جائیں تمہارے گیسو
سر کھجانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

یہی اعلان مناسب ہے غریبوں کے لئے
آب و دانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

کچھ حسینائیں تو ممنوعہ علاقہ بھی ہیں
ہر نشانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

پالتے رہئے دماغوں میں اگر کیڑا ہے
کلبلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

اب سیاست میں فقط عقل کے اندھے ہوں گے
اس میں کانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

تم کو سادہ کوئی سمجھا ہے تو بیچارے کو
بیچ کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

لیٹ ہو جاؤ تو شب پیڑ پہ کر لینا بسر
گھر میں آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

تشنگی ہے تو چلو جوس پئو لیمن کا
مئے چڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

آسمانوں پہ چڑھے ریٹ پراپرٹی کے
آشیانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

وہ ستمگار اڑنگی مجھے دے سکتا ہے
پاس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

جس پہ بھونکے ہو بہت اُس کو غضب میں پا کر
دُم دبانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

کرفیو کوئے حسیناں میں ہے دل والوں پر
بھنبھنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

عصرِ حاضر کی خواتین کے اطوار نہیں
شرم کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

آدمی بھی کوئی تانگے میں جُتا گھوڑا ہے؟
تازیانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

جھوٹ بھی سچ کی طرح پورے یقیں سے بولو
گڑبڑانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

بزمِ شعری میں غزل گا کے سناؤ نہ ظفر
شو جمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

Advertisements