گُلکاریاں ادبی فورم کے 48 ویں طرحی فی البدیہہ
مشاعرہ 05 اکتوبر 2013 کے لئے میری کاوش

بھرم توڑا نہیں کرتے
سنو ایسا نہیں کرتے

اگر پورا نہ کر پاؤ
تو پھر وعدہ نہیں کرتے

جلا نہ دہوپ میں ہم کو
اگر سایہ نہیں کرتے

جو شبنم سے سلگ اٹھے
اُسے شعلہ نہیں کرتے

اُنہیں جس دل میں رکھا ہے
اُسے میلا نہیں کرتے

یہ کن راہوں پہ آ نکلے
شجر سایہ نہیں کرتے

وہ جن کو جینا آ جائے
غمِ رفتہ نہیں کرتے

ظفر ہے فیصلہ دل کا
بہت سوچا نہیں کرتے

Advertisements