تیس اگست 2013 ء ___ فیس بک "دیا انٹرنیشنل فورم” کے فی البدیہہ طرحی مشاعرہ نمبر 8 میں کہی گئی میری غزل

کہتا ہےگداگر کہ مرا حق تو ادا کر
رکھتے نہیں بٹوؤں میں یونہی نوٹ دبا کر

ہیلمٹ کا لگا لینا بھی ہے کارِضروری
جب کوچہء جاناں میں مٹر گشت کیا کر

یہ عمر یہ بیباک نگاہی کے مشاغل
شامل ہوا بچھڑوں میں کوئی سینگ کٹا کر

تعزیر یہی جرمِ وفا کی ہے جہاں میں
پھینٹا ہے رقیبوں نے سدا خاک چٹا کر

یہ عشق کے کرتوت مناسب نہیں لگتے
افسانے کے ہیرو کو بنا دیتا ہے چاکر

محبوبِ گزشتہ کی نشانی ہے یہ بچہ
"سورج” کو ہتھیلی پہ اٹُھا اور ضیا کر

ہو جاتا ہے کونڈا تو پتہ چلتا ہے ہم کو
شامت نہیں آتی ہے کسی کو بھی بتا کر

یہ تیری مروت تجھے برباد نہ کر دے
کٹا ہو برابر تو اُسے چو بھی لیا کر

مجھ سے بھی سُنے میری حکایاتِ محبت
جاتا ہےکہاں کوئی غزل اپنی سُنا کر

Advertisements