ہر جماہی میں ہے کاہلی کا سفر
کاٹتے ہیں یونہی زندگی کا سفر

یہ وزارت سے بچھڑی ہوئی لیڈری
جیسے کاٹے کوئی بیوگی کا سفر

کب تلک مجھ کو ٹھینگا دکھائے گی وہ
کن مراحل میں ہے واپسی کا سفر

جاری و ساری ہے میڈیا کے تھرو
آگہی کا ہے یا گمرہی کا سفر

پیچھے کتا لگا ہو تو منٹوں کا ہے
ویسے گھنٹوں کا ہے اُس گلی کا سفر

چاپلوسی کے رستے پہ چلتے رہو
ورنہ دشوار ہے نوکری کا سفر

پھر وہی تُو وہی کوکا کولا کے خُم
پھر وہی میں وہی تشنگی کا سفر

ہر کس سے "اڑنگی” کا دھڑکا نہیں
ہر سفر تو نہیں دوستی کا سفر

لوڈ شیڈنگ سے حاصل نہیں ہے مفر
اپنی تقدیر ہے تیرگی کا سفر

یُوں ترقیء معکوس پر ہیں قدم
جیسے ممکن نہ ہو بہتری کا سفر

میری بیوی سمجھتی ہے سوکن اسے
پھر بھی رُکتا نہیں شاعری کا سفر

وہ تو شامت نے آواز دے دی ظفر
جاری رہنا تھا عقدِخفی کا سفر

Advertisements