کچھ فضا میری بھی تو جاگیر ہو
شیخ چلی کا محل تعمیر ہو

حضرتِ واعظ عجب انسان ہیں
چاہتے ہیں ہر چکہ تقریر ہو

دال کھائے تری محفل میں عدو
میری قسمت میں ہمیشہ کھیر ہو

ہم اُسے لیڈر بنا لیتے ہیں کیوں؟
حضرتِ شیطان جس کا پیر ہو

اتنے ملیٹنینٹ سب خُوباں رہیں
آنکھ تیشہ ہو زباں شمشیر ہو

وہ نظر آیا ہے ٹٹو پر لدا
اب جو میرے خواب کی تعبیر ہو

یُوں پڑوسن ہے مرے ہمسائے میں
پہلوئے رانجھا میں جیسے ہیر ہو

جانئے شب دیر سے لوٹا ہوں گھر
سر پہ گومڑ ہو یا منہ پر چیر ہو

دیجئے تھپکی یا جھانپڑ جھاڑئے
دیکھئے جو بھی دوا اکسیر ہو

امنِ عالم کا تقاضہ ہے یہی
شعر کہنے پر کوئی تعزیر ہو

شوقِ دلہن بھی بجا لیکن اگر
ساتھ میں سسرال بھی تقدیر ہو

Advertisements