فیس بُک پر مورخہ 9 اگست 2013 کی شب کو منعقد کردہ دیا فی البدیہہ طرحی مشاعرہ نمبر 5 میں کہے گئے غالب کی زمیں میں چند اشعار

نقدِ رشوت لیا کرے کوئی
خوب پھولا پھلا کرے کوئی

توند اتنی بڑی جو رکھتا ہے
اپنا بِل بھی ادا کرے کوئی

جیب کٹ جائے بے خیالی میں
یوں نہ ہم سے ملا کرے کوئی

کام دشوار ہی سہی لیکن
ہو سکے تو بھلا کرے کوئی

اپنا دوزخ بھرا نہیں جاتا
"کس کی حاجت روا کرے کوئی”

عاشقوں کا نہ منہ نہ متھا ہے
دیکھ کر کچھ گرا کرے کوئی

جو ہمیں جینے بھی نہیں دیتے
اُن پہ کیسے مرا کرے کوئی

ایسی افطاریاں بھی دیکھی ہیں
تا بہ سحری چرا کرے کوئی

شعر میں نے بھی کچھ چُرانے ہیں
اپنے دل کو بڑا کرے کوئی

Advertisements