فیس بُک پر گُلکاریاؔں کے 40ویں ھفتہ وارطرحی مشاعرے میں مورخہ 10 اگست 2013 کو کہے گئے اشعار کا انتخاب

چلے ہیں کوہِ مری یا کلر کہار چلے؟
یہ آپ لوگ بنا کر کہاں قطار چلے؟

سفر ہے عشق کا لیکن اِس اہتمام کے ساتھ
جنابِ قیس چلیں آر لیلٰی پار چلے

سبھی نے ہاتھ کئے صاف بہتی گنگا میں
فقط ہمیں ہیں کہ جن پر خدا کی مار چلے

اُٹھا کے لے گئے مالی کے تم سبھی اوزار
‘‘چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے‘‘

ہمیں تو اپنی ہی ٹانگوں پہ ہے لدے رہنا
اُنہیں کی کار چلے جن کا کاروبار چلے

تری گلی میں یہ عشاق کس کی گھات میں ہیں
یہ کون لوگ ہیں’ کرنے کو کیا شکار چلے

ترے خیال سے اب بھی ہیں نسبتیں مجھ کو
تری دکان سے اب بھی مرا ادھار چلے

لگائے پھرتے ہیں آگے یوں تیری یادوں کو
گدھوں کو ہانکتے جیسے کہیں کمہار چلے

نماز پڑھنا بھی دشوار ہو گا روز بروز
خدا کے گھر سے اگر ننگے پاؤں یار چلے

مجھے نہ ہونے دیا کامیابِ ِعشق ظفر
مرے رقیب مری عاقبت سنوار چلے

Advertisements