فیس بُک پر مورخہ 2 اگست 2013 کی شب کو منعقد کردہ دیا فی البدیہہ طرحی مشاعرہ نمبر 4 میں کہے گئے چند اشعار

مرے اینڈ کو ایسا آغاز دینا
کہ شامت بھی ہو تو بہ اعزاز دینا

اے بیگم میں پہلے ہی تھلے لگا ہوں
عبث ہے ترا رعبِ ان لاز دینا

کوئی پوچھتا ہے قیامت کی بابت
ذرا اپنے بچے کو آواز دینا

عدو پر بڑی ّّدیدے افزائیاں ٗٗ ہیں
،ری سمت بھی چشمِ غمّاز دینا

مری "دُڑکیاں ” دیکھنے والی ہوں گی
کہیں دور سے مجھ کو آواز دینا

کرادے گا سارے محلے میں رسوا
پڑوسن کو گھر کا کوئی راز دینا

مقدر کی فیاضیاں توبہ توبہ
جو در مجھ کو دینا وہی باز دینا

شُتر مرغ کیوں بن گئے ہیں مسلماں
خداوندا توفیقِ پرواز دینا

کٹی عمر ذکرِ پری زاد کرتے
پر اب شاعری کو کوئی کاز دینا

Advertisements