غمِ طیبہ کا داغ روشن ہے
گویا کوئی چراغ روشن ہے

ذکرِ سرکار کی بہاروں سے
گُل مہکتے ہیں باغ روشن ہے

دل کے جذبوں سے روشنی پا کر
آئینہء دماغ روشن ہے

تیرے راہی بھٹک نہیں سکتے
منزلوں کا سراغ روشن ہے

تشنگی اس امید پر نہ بجھی
میکدے میں ایاغ روشن ہے

میں ترے عشق کے خمار میں ہوں
دل پئے ایں فراغ روشن ہے

Advertisements