فیس بُک ہے ایک برقعہ
اور وہ بھی برقعہء خیمہ نما
جس میں ہر کوئی نہاں
کچھ بھی کھلتا ہے کہاں
کون کیسا ہے میاں
اک عجب عالم نظر آئے یہاں
کیا خبر شاہ رخ کی آئی ڈی کے پیچھے کن بزرگوں کو ہے سوجھی دل لگی
اللہ دتے نے پہن رکھی ہے کوئی میکسی
مس غزل کی مونچھ چبھنے لگ گئی
آخرش ٹھمکا لگا کر رہ گئی مس پھلجڑی
کچھ پتہ چلتا نہیں ہے کون کیسی ذات ہے
آفریں صد آفریں ۔۔۔۔۔۔۔ اے فیس بُک کیا بات ہے

Advertisements