گرا تھا مجھ سے جب ٹکرا کے خسرو
تو بھنایا تھا مجھ پر کس قدر وہ
مگر اب جانتا ہے
جو رازِ ارتقا ہے
اڑنگی دے رہا ہے ہر کسی کو

Advertisements