عیاں جو تیرا مرا پیار ہونے والا ہے
تو تیرا باپ بھی تاتار ہونے والا ہے

نکلنے والا ہے فیشن نیا زمانے میں
یہ شامیانہ بھی شلوار ہونے والا ہے

بتا دیا ہے اگر راز بی پڑوسن کو
تو پھر ضمیمئہ اخبار ہونے والا ہے

اب اس وجہ سے بھی ہے انقلاب کا امکاں
کہ ٹیکس نیٹ میں "نسوار ہونے والا” ہے

بڑھے ہیں عرضِ تمنا پہ ہاتھ سینڈل کو
تری طرف سے بھی اظہار ہونے والا ہے

کسی محاذ پہ آخر ڈٹے رہیں کب تک
فرار جب مرا سالار ہونے والا ہے

جمالِ یار کی خرکاریاں’ ارے توبہ !
اُسی کا یہ دلِ غدار ہونے والا ہے

نہیں ہے اور شرافت کو چُوپنے والا
یہ فدوی شاملِ تکرار ہونے والا ہے

پکڑنے والی ہے مجھ کو بھی شامتِ اعمال
مرا ستارہ بھی دُم دار ہونے والا ہے

ظفر خرید لئے ہیں محبتوں کے حصص
خلوص گرمئی بازار ہونے والا ہے

Advertisements