یوں فدوی تو نرا کنگلا رہا ہے
مگر لُٹنے کا بھی دھڑکا رہا ہے

نہ آئی رات بھر بجلی نہ آئی
"دیا سا رات بھر جلتا رہا ہے”

ہمیشہ مک مکا کی ٹکٹکی پر
ہمارا کیس ہی لٹکا رہا ہے

گلاسز ہیں عجب اہلِ نظر کے
مرا اُلٹا ترا سیدھا رہا ہے

ذرا سا ووٹ دینے سے کسی کے
کئی برسوں کا پھر رگڑا رہا ہے

ملی نہ قیس کو بھی لفٹ اتنی
سگِ لیلٰی قریں جتنا رہا ہے

سیاست ہے وہ سرکس جس میں لیڈر
قلابازی بہت کھاتا رہا ہے

کنکشن لے کے میرے یُو پی ایس سے
مجھ ہی پر بجلیاں برسا رہا ہے

چہکتا ہے ظفربزمِ سخن میں
مگر سسرال میں گونگا رہا ہے

Advertisements