دل کی ڈوری سے وہ کنیاں جو لگاتے ہم کو
شوق سے اپنی ہواؤں میں اُڑاتے ہم کو

کسی معراجِ محبت کو پہنچ جانا تھا
کوئے جاناں سے جو کتے نہ بھگاتے ہم کو

ہم کو باور ہے اگر داڑھ تلے آ جاتے
وہ ستمگار تو کچا ہی چباتے ہم کو

ایسی معصوم سی صورت ہے کہ اللہ اللہ
چور ایسے ہیں کہ ہم سے ہی چراتے ہم کو

وہ محبت میں اگر نیواں نہیں کر پائے
اپنے خوابوں میں تو سسرال میں پاتے ہم کو

اُن کو ’’اِن لاز‘‘ بنانے کے تمنائی تھے
کوئی ڈینگی تھے کہ وہ مار مکاتے ہم کو

ہم اسے پیار کی شوخی کا تقاضہ کہتے
وہ اگر ٹانٹ پہ دو ہاتھ جماتے ہم کو

رندِ دیرینہ تھےہم‘ تائبِ مئے ہونے پر
ساقیا لیموں کا شربت ہی پلاتے ہم کو

ہجو و واسوخت بھگتنے کا اگر ظرف نہ تھا
زخمِ دل دے کے وہ شاعر نہ بناتے ہم کو

Advertisements