ہاتھ ایسا دکھا دیا ہم کو
کوئی لگنے لگا بلا ہم کو

ایسی کالک تھی بعض لوگوں میں
اُن سے بہتر لگا توا ہم کو

ڈڈووں نے بھی ہم کو مانا ہے
کیوں سمجھتے ہو بے سُرا ہم کو

جو کسی کو بھی منہ دکھا نہ سکیں
وہ دکھاتے ہیں آئینہ ہم کو

لطف جمہوریت پئے لیڈر
اور حاصل بچا کھچا ہم کو

کام ہوتے نہیں ہیں مفتے میں
کرنا پڑتا ہے مک مکا ہم کو

ہم ہیں اور سیلف میڈیکیشن ہے
کھا رہی ہے کوئی دوا ہم کو

پولیٹیشن سمجھ کے بیٹھے ہیں
اپنی تقدیر کی غذا ہم کو

—– ق —–

پی ایم ایل این کو چوز کرنے کی
کہیں مل جائے نہ سزا ہم کو

دیکھنا پھر سے "تا” نہ کر جائے
شیر کی کھال سے گدھا ہم کو

———

اتنی میک اپ کی مشق کر کے بھی
منہ چڑائے کیوں آئینہ ہم کو

عشق ہو عقد ہو الیکشن ہو
مہنگا پڑتا ہے تجربہ ہم کو

یوں تو عہدِ وفا ہے از سرِ نو
پھر دکھائے نہ پینترا ہم کو

چیک کرنے پڑے ہمیں کھیسے
کون ایسا گلے ملا ہم کو

مار دیتا وہ کنکری سر پر
جب بھی غرفے سے جھانکتا ہم کو

کہیں ظفرانیات پڑھ کے ظفر
لوگ سمجھیں نہ مسخرا ہم کو

Advertisements