”گُلکاریاؔں” 4 مئی 2013 بروز ھفتہ،  27 ویں ھفتہ وار فی البدیہہ طرحی مشاعر ے میں کہے گئےچند اشعار

آپ کو آپ کی الفت نہیں ملنے والی
گویا کہ خلعتِ شامت نہیں ملنے والی

اپنی مرضی کا بناتے رہو "دی اینڈ” مگر
ہر فسانے کو حقیقت نہیں ملنے والی

آج کاکی نے وہ جھاڑی ہے "کراٹے لتی”
اور کاکے کی شکایت نہیں ملنے والی

جب رقیبوں نے کہیں گھیر لیا رستے میں
اپنی صورت سے بھی صورت نہیں ملنے والی

کلجگِ نو میں ہیں ہر طور سے مرنے کے مزے
پھر کبھی ایسی سہولت نہیں ملنے والی

آنسہ ہیر کے ویروں نے وہ کُٹ دینی ہے
میاں مجنوں کو جراحت نہیں ملنے والی

عقد کا پھل جو چکھو گے تو سزا بھگتو گے
اس میں پہلے سے قباحت نہیں ملنے والی

یوں فصیحہ کی فصاحت کے جو چکر میں رہے
تو ملیحہ کی ملاحت نہیں ملنے والی

تیری بیوی کو ہو چوہے سے زیادہ ترا ڈر
اس قدر دادِ شجاعت نہیں ملنے والی

ووٹ دے کر تجھے سرزد بھی ہو سکتی ہے
جرم ایسا کہ ضمانت نہیں ملنے والی

ایسے لیڈر کے بھی حصے میں ہیں احمق کہ جسے
ووٹ ملنے ہیں ہدایت نہیں ملنے والی

Advertisements