الیکشن جیتنے کے بعد بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم دگنی کردینگے،بلاول بھٹو

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے پیپلزپارٹی عوامی حمایت سے آئندہ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے اسلام آباد میں حکومت بنائے گی،” اور اس خواب کو مجھے کم از کم 11 مئی تک تو دیکھنے دو” ۔ انہوں نے کہا کہ انکی ماں بے نظیر بھٹونے جمہوریت کیلئے جان دی اور پیپلزپارٹی عوام کی بہتری کیلئے جمہوریت کے تحفظ کیلئے قربانیاں دیتی رہے گی۔”جس کا تجربہ آپ کو ہماری گزشتہ پانچ سالوں کی عدیم المثال کارکردگی سے ہو گیا ہو گا” انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں پانچ سالہ مدت مکمل کی اور پیپلزپارٹی2013کے انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کریگی۔” اور اس کے لئے مجھے انشاء اللہ کہنے کی بھی ضرورت نہیں ہے” ضیاء الحق کی باقیات کے انتخابات میں جیتنے کے خواب کو چکناچور کرکے انہیں دوبارہ دھول چٹائیں گے کیونکہ عوام اب تک انکے ماضی کو نہیں بھولے ہیں۔” جبکہ امیدِ قوی ہے کہ وہ ہمارا ماضی یقیناً بھول چکی ہو گی” بلاول بھٹو نے کہا کہ بے نظیر ہمیشہ آمروں کے سامنے سینہ سپر رہیں اور جمہوریت کیلئے جان دی۔” اس لئے اس کا بیٹا ہونے کی وجہ سے اس کا معاوضہ مجھے ملنا چاہئے” انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی ماضی کی طرح غریب عوام کی خدمت کرتی رہے گی اور انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔”کیونکہ اُنہیں تنہا چھوڑ پر ہم نے کیا اپنے پیٹ پر لات مارنی ہے” بلاول نے کہا کہ پیپلزپارٹی الیکشن جیتنے کے بعد بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ماہانہ1000 روپے کی رقم کو دگنا یعنی 2000روپے کردے گی، جس سے ملک میں لاکھوں غریب و نادار افراد مستفید ہورہے ہیں۔” ان غرباء میں پیپلز پارٹی کے وہ تمام ورکرز شامل ہیں جو اس سے قبل بھی اسی سکیم سے مستفید ہو چکے ہیں” انہوں نے کہا انکی جماعت بے نظیر انکم سپورٹ کے دوسرے مرحلے میں بین الاقوامی اداروں سمیت بینکوں کو بھی شریک بناکر اس منصوبے کے حجم کو بڑہائے گی، اور عام آدمی کی بھلائی کیلئے مزید اسکیمیں شروع کی جائیں گی۔”تاکہ ہمارے خاندانی بنک بیلنس میں مزید اضافہ ہو سکے”۔

انتخابی حلقوں میں رینجرز ایم کیوایم کے کارکنوں کو ہراساں کر رہی ہے،رابطہ کمیٹی

کراچی…متحدہ قومی مومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے نگراں وزیر اعظم اور چیف الیکشن کمیشن آف پاکستان سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں ایم کیوایم کے زیر اثر پرامن علاقوں میں رینجر زکی جانب سے کارکنوں اور ہمدردوں کو ہراساں کیا جانے کا عمل بند کروایا جائے ۔” کیونکہ یہ سخت چیٹنگ ہے کہ جو کام ایم کیو ایم نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے وہ کوئی اور کرے” اپنے بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہا کہ کراچی کے تقریباً تما م ہی انتخابی حلقوں میں رینجرز کے اہلکار ایم کیوایم کے کارکنوں کو ہراساں کر رہے ہیں اورانہیں انتخابی سرگرمیوں سے روک رہے ہیں،” ویسے بھی ہمارے نزدیک کراچی میں الیکشن ایم کیو ایم کی سلیکشن کے علاوہ کچھ اور نہیں ہونا چاہئے” بعض علاقوں میں سادہ لباس میں اہلکار ایم کیوایم کے دفاترپر آنے اور جانے والوں کی تلا شی رہے ہیں اور ان کے کوائف جمع کر رہے ہیں ” اور یہ بات واقعی مایوس کُن ہے کہ ابھی تک اُن کے پاس ہمارے کاکنوں کی دہشتگردی کے تمام کوائف موجود نہیں‘ انہیں ڈوب مرنا چاہئے” ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد شہر بھر میں آزادانہ طور پر دندناتے پھر رہے ہیں اور دہشت گردی ،بھتہ خوری اور قتل وغارتگری کی کھلی کاروائیوں میں مصروف ہیں لیکن رینجرز اہلکار ان دہشت گر د عناصر کو گرفتار کرنے کے بجائے الٹا ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔” انہیں چاہئے کہ وہ اپنی پشت پناہی کو توسیع دیں اور اس کا دائرہ کار ایم کیو ایم تک پہنچائیں” انہوں نے کہا کہ انتخابات میں چند روز باقی رہ گئے ہیں اور ملک کی دیگر سیاسی ومذہبی جماعتوں نے الیکشن کے سلسلے میں آزادانہ انتخابی مہم کا آغا ز کیا ہوا ہے اور وہ جلسے و جلوس کر رہی ہیں، انہیں انتخابی دفاتر بھی کھولنے کی اجازت ہے ،مگرکراچی کی نمائندہ جماعت ایم کیوایم کو انتخابی مہم چلانے کی آزادی تک نہیں دی جارہی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ "اس مہم کو چلانے کی اجازت دی جائے اور اس سلسلے میں قانون اور اخلاق کے نام پر فنڈ ریزی کی مساعی جمیلہ میں روڑے نہ اٹکائے جائیں” رابطہ کمیٹی نے نگراں وزیر اعظم میر ہزار خان کھوسو،اور چیف الیکشن کمیشن آف پاکستان فخر الدین جی ابراہیم سے مطالبہ کیا ہے کہ پرامن اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کیلئے ایم کیوایم کے خلاف کی جانے والی سازشوں کا نوٹس لیاجائے اور رینجر ز کی جانب سے ایم کیوایم کے ذمہ داران وکارکنان اور ہمدردوں کوہراساں کرنے کے غیرجمہوری عمل کو فی الفور بند کرایا جائے ۔” تاکہ ہم ریاست کے خلاف سازشوں کا عمل جارے رکھ سکیں اور جمہوریت اور دہشت گردی کو باہمی اتفاقِ رائے سے فروغ دے سکیں۔

ریٹرننگ افسران نے مذہب کے نام پر لوگوں کی تذلیل کی: فضل الرحمٰن

لاہور … جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ریٹرننگ افسران نے مذہب کے نام پر لوگوں سے سوال کرکے ان کی تذلیل کی، "چہ سیاستدان چہ مذہب‘ یوں بھی کیا انہوں نے پاکستانی فلموں کے یہ ڈائلاگ نہیں سُنے کہ چوری میرا پیشہ ہے اور نماز میرا فرض” پاکستان اسلام کیلئے بنا ہے، ” اور اسلام کے نام پر لوٹ مار کی ہمیں خصوصی اجازت دی گئی ہے” الیکشن کمیشن روز بہ روز ضابطہ اخلاق میں اضافہ کر رہا ہے،” حالانکہ ہمارے ہاں تو پٹھان کی زبان ایک ہوتی ہے‘ جو کہہ دیا سو کہہ دیا یا جو کر دیا سو کر دیا” ہماری پہلی ترجیح ملک میں امن و امان قائم کرناہے۔ ” اس کے علاوہ جو اقدام بھی فلاح عام کے ضمن میں اٹھایا جائے گا وہ غیر منصفانہ ہو گا” لاہور کے علاقے گلشن راوی میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں جے یو آئی کے 600 سے زیادہ امیدوار کھڑے کئے گئے ہیں،”جمیعت تو اس سے بھی زیادہ امیدوار کھڑے کرنا چاہ رہی تھی لیکن اُسے امیدوار مل ہی نہیں پا رہے تھے” ہماری پہلی ترجیح ملک میں امن و امان قائم کرنا ہے،”جیسا کہ پچھلی حکومت کی ترجیح رہی ہے اور جس کو اُس نے جس ذمہ داری سے نبھایا ہے اُسی طرح کی ذمہ داری کی توقع ہم سے بھی رکھی جائے” تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے منشور کے ساتھ میدان میں اترچکی ہیں۔”چنانچہ ہم بھی اپنے حلوے مانڈے کے لئے حاضر ہیں”، الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ انتخابات میں ووٹ اسلام کے نام پر نہ لیں، اسلام کا نام استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی تو یہ نظریہ پاکستان کا انکار ہے، پاکستان اسلام کیلئے بنا ہے۔” اور ہمارے برانڈ کا اسلام ہمارے حلوے مانڈے کے لئے بنا ہے” فضل الرحمان نے مزید کہا کہ یہ الیکشن کمیشن سیکولر تصورات کی نمائندگی کرتا ہے، اس ضابطہ اخلاق پر الیکشن کمیشن اپنی پوزیشن واضح کرے۔”ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘ان کا کہنا ہے کہ ریٹرننگ افسران نے مذہب کے نام پر لوگوں سے سوال کرکے ان کی تذلیل کی، جب آپ کو دین کا علم نہیں تو سوال ایسے ہی گھٹیا ہوں گے، پہلے خود دین کا علم حاصل کرو۔” اور پھر اس کا استحصال کرنا سیکھو”۔

Advertisements