جو میسنجر پر ملے ہیں اُن سلاموں کو سلام
میری  شامت کے سنہرے انتظاموں کو سلام

پار کر لیتے ہیں جو ہر ایک فائر وال کو
حسن کے اُن ہیکروں ‘ کو بے لگاموں کو سلام

آپ نے جن پر اڑنگی دے کے پٹخا ہے ہمیں
پیار کی راہوں کے اُن دو چار گاموں کو سلام

اب ہمیں خوش آئے کیسے یہ ازم یا وہ ازم
دور سے چوسے ہوئے ان سارے آموں کو سلام

کچھ تو ناکامیَ الفت نے نئے رشتے دیے
پودِ خوباں تیرے سب نوخیز ماموں کو سلام

ہم نے تو گویا کسی کی بھینس ہے کھولی ہوئی
آپ کی سرکار کے سب نیک ناموں کو سلام

ہم نہیں مرتے کسی اسکرٹ یا پتلون پر
اِن غراروں پر نچھاور ‘ اِن پاجاموں کو سلام

آپ ہم جن کو سیاستدان کہتے آئے ہیں
ملتِ بیضا کے اِن سارے حجاموں کو سلام

اِک ذرا خود کو بچا لیجے گا اِن کے فیض سے
دور سے اِن شاعروں کو خوش کلاموں کو سلام

Advertisements