الف اردو لٹریری فورم کے ہفتہ وار فی البدیہہ مشاعرہ 111 (مورخہ 9 مارچ بروز ہفتہ) میں میری فی البدیہہ غزل کے چند اشعار

سوالِ وصل پہ اصرار  اِتنا  بھی  کیا ہے
کہ تنگ آ کے کوئی پوچھنے لگی ۔۔۔۔ کیا ہے

نہیں ہیں نوٹ تو بٹوہ ہے ایک بارِ گراں
دماغ جس میں نہیں ہے وہ کھوپڑی کیا ہے

وہی ہے بکرے کی میں میں تمہاری باتوں میں
تمہیں خبر نہیں دستورِ دوستی کیا ہے

عوام کیوں ہے خیالی جگالیوں میں مگن
جو لیڈروں نے دکھائی ہری ہری کیا ہے

تُو گھر میں کس لئے لیتا ہے آ کے خراٹے
یہ خانگی ہے تو پھر کارِ دفتری کیا ہے

جو پارلر میں گئی تھی وہ  بوڑھی بی ہے کہاں
جو پارلر سے نکلتی ہے وہ پری کیا ہے

یوں توڑتا نہ دھڑلے سے دست و پائے سخن
اگر میں جانتا ہوتا کہ شاعری کیا ہے

تمہاری منج تو کھولی نہیں ہے میں نے ظفر
سنا رہا ہے مجھے کیوں کھری کھری ‘ کیا ہے

Advertisements