گُلکاریاں کےھفتہ وار طرحی فی البد یہہ مشاعرہ بتاریخ 9 مارچ 2013 میں کہی گئی غزل کے چند اشعار

کسی کو کوئی مرض بھی کبھی فنا نہ کرے
دعا کرو کہ کوئی ڈاکٹر دوا نہ کرے

ملے رقیب کو ٹھینگا تمہاری محفل سے
تُو میرے بعد بھی زندہ رہے’ خدا نہ کرے

میں کھینچتا رہوں ٹانگیں ہر ایرے غیرے کی
یہ چاہتا ہوں کہ مجھ سے کوئی بُرا نہ کرے

سمارٹ ہونے کے ان ٹوٹکوں سے کیا حاصل
اگر وہ کم کسی صورت کبھی غذا نہ کرے

تم آؤ گے تو چراغاں کریں گے ہم گھر میں
آئی ایسکو کیدو کا کردار جو ادا نہ کرے

تری وفاؤں کی ویگن کو دیکھتا ہی رہوں
مرے قریب سے گزرے تو آسرا نہ کرے

مجھے لگانی نہ پڑ جائے ہر دفعہ دُڑکی
تمہارا کتا ہمیشہ مجھے ملا نہ کرے

تُو مارتی چلی جاتی ہے اُس کو مس کالیں
تو کیا کرے ترا عاشق اگر خطا نہ کرے

میں ووٹروں کی طرح تیری پھرتیاں دیکھوں
تو لیڈروں کی طرح میرا سامنا نہ کرے

وہ چٹکیاں یونہی بھرتا رہے زمانے کو
ظفر کی بات کسی کو مگر چبھا نہ کرے

Advertisements