گلکاریاں کے زیر اہتمام فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ 26 جنوری 2013 میں پیش کردہ میری غزل

منزلوں کے نام حیرت کا سفر اچھا لگا
جب سفر سے لوٹ کر آئے تو گھر اچھا لگا

ختم ہونے کو تھی میری ذیست کی جدوجہد
عین ساحل پر کوئی رقصاں بھنور اچھا لگا

میری حیرت کو حقیقت کی گواہی مل گئی
عکس آئینے سے باہر دیکھ کر اچھا لگا

زندگی دشوار سے دشوار تر ہوتی گئی
ہاں مگر ایسے میں جینا کس قدر اچھا لگا

یوں تو برگِ خشک تھے ہم برسرِصحنِ چمن
ہم کو بھی لیکن بہاروں کا ہنر اچھا لگا

زخم تھا جو بھی تمہاری بزم کی سوغات تھا
تیر تھا جو بھی تمہارے نام پر اچھا لگا

اُس کا چہرہ ہر سمے آنکھوں میں تازہ دم رہا
کچھ تو اُس میں بات تھی شام و سحر اچھا لگا

چاند تھا اور رات کے اندھے سفر میں ساتھ تھا
مدتوں کے بعد کوئی ہمسفر اچھا لگا

آگئے تھے راہرو کانٹوں بھری شاخوں تلے
دہوپ اتنی تھی کہ ہم کو ہر شجر اچھا لگا

ظلمتوں میں چاند کا دیدار خوش آیا ظفر
یا جہاں کومیرا اندازِ نظر اچھا لگا

Advertisements