الف ۔۔۔۔۔۔۔۔ آفیشل گروپ ۔۔۔۔۔۔ ہفتہ وار فی البدیہہ طرحی مشاعرہ نمبر  105 بتاریخ 26 جنوری 2013 میں پیش کی گئی میری غزل

"بجھا جاتا ہے دل آنکھوں کی ویرانی نہیں جاتی”
اداکاری کچھ ایسی ہے کہ پہچانی نہیں جاتی

مری سالی بھی اب تو آ گئی ہے ساس سے ملنے
پریشانی یہی ہے کہ پریشانی نہیں جاتی

ملے جو چانس تو چک مارنے سے بھی نہیں ٹلتے
بظاہر دوستوں کی خندہ پیشانی نہیں جاتی

مسلسل دال بھی ہم نے پکا کر دیکھ لی’ ہائے
نہیں جاتی زبردستی کی مہمانی نہیں جاتی

چڑھی جاتی ہے ہر ہر شے کی قیمت آسمانوں پر
مگر دنیا سےانسانوں کی ارزانی نہیں جاتی

دُھنائی سے  بھی ان کو ہوش آپاتا نہیں اب کے
ترے عاشق سے تیرے در کی دربانی نہیں جاتی

ترے کوچے میں تیرا ویرہم سے ایسا ٹکرا ہے
خود اپنی شکل بھی ہم سے تو پہچانی نہیں جاتی

مری ہر بات کو فٹ سے پکڑ تے ہیں جہاں والے
وہ لڑھکاتے ہیں وٹے پھر بھی گل خانی نہیں جاتی

یہ ایسا دور ہے حق بات بھی اہلِ زمانہ سے
ظفر منوانی پڑتی ہے کبھی مانی نہیں جاتی

Advertisements