الف ۔۔۔۔ آفیشل گروپ  ہفتہ وار فی البدیہہ طرحی مشاعرہ نمبر 104  بتاریخ 19 جنوری 2013 کی شب کہی گئی میری غزل

یونہی دستک پر چونکا تھا
تُو تھا کہاں وہ "ددھ والا” تھا

کتا  ہےجو کاٹ رہا ہے
کتا تھا جو بھونک رہا تھا

کس نے کُوڑا مجھ پر پھینکا
کس کی گلی سے میں گزرا تھا

وہ بھی جھوٹ بہت بکتا تھا
میں بھی کچھ لیڈر جیسا تھا

جب میں میاں والی سے لوٹا
تو میں بھی بی بی والا تھا

دال بظاہر خود کالی تھی
یا کہ دال میں کچھ کالا تھا

تیرے ویر کی غراہٹ تھی
میرا گٹا تھا گوڈا تھا

کیسے سنسر کر کے بتاؤں
جو کن انکھیوں سے تاڑا تھا

یار ہوئے کیوں غائب غلا
شعر تھا یا لاحول پڑھا تھا

Advertisements