ادبی فورم ” گلکاریاں ” کے ہفتہ وار طرحی مشاعرہ 12 جنوری 2013 ء میں پڑهی جانے والی میری غزل

میری تقدیر میں وہ گھیر کے لائے بھی گئے
اور پھر شامتِ اعمال بنائے بھی گئے

جن کو ہوٹل میں چکن روسٹ کہا جاتا ہے
ایسے پتھرکبھی یاروں سے چبائے بھی گئے ؟

کچھ تھے پیدائشی حقدار چغد بننے کے
اور کچھ لوگ زمانے میں بنائے بھی گئے

آزمایا بھی گیا ہے مرا ایماں اکثر
یعنی جوتے مرے مسجد میں چرائے بھی گئے

دل میں بسنے پہ کرایہ نہیں دینا پڑتا
حُسن والے کبھی مسکن کو سرائے بھی گئے

یُوں نہیں ہے کہ بزرگوں کی ہی خدمت کی ہے
پاؤں بیگم کے کئی بار دبائے بھی گئے

ہائے اس پر بھی ستمگر نہیں مانے میری
کھا کے بسکٹ بھی گئے پی کے وہ چائے بھی گئے

کودنا تھا انہیں بچھڑوں کی کسی ریلی میں
سو اِسی واسطے کچھ سینگ کٹائے بھی گئے

کبھی نقاد نہتےنہ گئے محفل میں
طنز بھی ساتھ گئے اور کنائے بھی گئے

Advertisements