(احمد فراز کی غزل کی پیروڈی)

ہم سے بگڑ کے وہ بھی مقدر کے ہو گئے
جس گھر سے رشتہ آیا اُسی گھر کے ہو گئے

پھر یُوں ہوا کہ میم سے رشتہ بنا لیا
دیکھا گرین کارڈ تو باہر کے ہو گئے

جانے مرا عشاق میں نمبر ہو کون سا
اِس دل سے محو نام بھی اکثر کے ہو گئے

رشوت نے بابوؤں کا مقدر جگا دیا
اکثر گریڈ بیس کی ٹکر کے ہو گئے

کہتے تھے صیدِ کاکل و گیسو ہیں بیوقوف
پھر رفتہ رفتہ خود اُسی "گھنگھر” کے ہو گئے

یُوں نہ ہمیں شکار کرے ہر نظر کہ ہم
زیبا کے ہو گئے کبھی کوثر کے ہو گئے

روتے ہو اک فریدہء جاں آفریدہ کو
دیکھو تو کتنے گال چقندر کے ہو گئے

Advertisements