چانس مل جائے تو پھر عار کہاں ہوتا ہے
عقدِ ثانی کو تو ہر ہیر جواں ہوتا ہے

اُڑ کے آ جاتے ہیں مولانا ہر اک دعوت پر
ہر جگہ آپ کو حلوے کا گماں ہوتا ہے

آج لیڈر بھی ہے چابی کے کھلونے کی طرح
شور کرتا ہے’ ٹھہرتا ہے’ رواں ہوتا ہے

چانس ہوتا ہے مُکر جانے کا سولہ آنے
قولِ محبوب بھی لیڈر کا بیاں ہوتا ہے

عین ممکن ہے کہ آ جائے زدِ سنسر میں
دل کا جو حال نگاہوں سے عیاں ہوتا ہے

امن کا ذکر بھی کرتے نہیں تھکتے ظالم !
جن کے ہاتھوں میں سدا تیر کماں ہوتا ہے

بعض لوگوں کو تو باور ہی نہیں ہو پاتا
برتر از توند بھی کچھ کارِ جہاں ہوتا ہے

ایرے غیرے یونہی بیکار مچل جاتے ہیں
گردشِ جام پئے تشنہ لباں ہوتا ہے

میرے گھر میں میرے ہونے کا پتہ چلتا ہے
کھانسنا بھی کوئی اندازِ بیاں ہوتا ہے

کب سے بیگم کو گلہ ہے مری خوابیدگی سے
میرے ہونٹوں پہ فلاں اور فلاں ہوتا ہے

Advertisements