جو گھر جوائی کے چکر میں آئے بیٹھے ہیں
یا گھر کا کتا ہے یا یہ سدھائے بیٹھے ہیں

میں اُن کے رعب میں آنے کو دل سے تھا تیار
تمہارے ویر یونہی دُم دبائے بیٹھے ہیں

تجھے رقیب کے سر تھوپنے کی کاوش میں
تری برات میں ہم بن بلائے بیٹھے ہیں

میں ویگنوں میں سفر کر رہا ہوں شان کے ساتھ
پجیرو میں بھی کوئی بددعائے بیٹھے ہیں

تمام شہر کو جلوؤں سے فیض پہنچا کر
میاں کے سامنے گھونگھٹ گرائے بیٹھے ہیں

وہ شوہروں کی طرح بولتے نہیں کب سے
جو "بر دکھوے” کی دہونی رمائے بیٹھے ہیں

یونہی تو کرتے نہیں ایک دوسرے سے حذر
ہم اُن کو اور وہ ہمیں آزمائے بیٹھے ہیں

وبال کر دیا افراطِ زر نے جینے کو
مگر جو رزقِ ہوائی کمائے بیٹھے ہیں

وہ شیر ہوں جسے گیدڑ بنا دیا جائے
ہمارا بخت کہ سسرال آئے بیٹھے ہیں

وہ ہنس پڑیں تو ہمارا بھی خون بڑھتا ہے
ہمارے شعر جنہیں گُدگدائے بیٹھے ہیں

غزل میں بھی ہیں وہی ازدواجی ہنگامے
مشاعرے میں بھی دُکھڑے سنائے بیٹھے ہیں

Advertisements