انحراف ادبی فورم کے فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۴ دسمبر ۲۰۱۲ بیادِ عرفان صدیقی کے لئے میری کاوش

عمر بھر کیسے چلے سلسلہ نادانی کا
عشق ہے کوئی مقدمہ نہیں دیوانی کا

تیری تجرید کے مفہوم سمیٹے جائے
حوصلہ اتنا نہیں میری سمجھدانی کا

کاش آ جائے ذرا خوف خدا بھی ظالم
جس قدر شوق رہا تجھ کو حکمرانی کا

میں بھی ووٹر ہوں مری جان ترے حلقے میں
"حکم ہے مجھ کو خرابوں کی نگہبانی کا”

شرم سے جس نے جھکایا ہے ہمارے سر کو
کیسے میڈل نہیں ملتا اُسے عریانی کا

تیری استادی بھی ہے لائقِ تحسین مگر
میں تو قائل ہوں سدا سے تری اُستانی کا

سانڈ کا فرسٹ کزن ٹھہرا رقیبِ موذی
اور  فدوی کوئی بکرا نہیں قربانی کا

عقد وہ بُور کا لڈو ہے جو سب کھاتے ہیں
ذائقہ شوق سے چکھتے ہیں پشیمانی کا

تیل جلتی پہ گرانا تھا اُسی کا شیوہ
آج شکوہ ہے جسے سوختہ سامانی کا

سامنے قوم کے آ جائے گا اڑیل ٹٹو
جب بھی نقشہ کوئی کھینچے گا تری "خانی” کا

سب سیاست کے نشے میں ہیں گرفتار ظفر
مفت میں خواب نہ دیکھا کرو ارزانی کا

Advertisements