جگر مراد آبادی مرحوم کی غزل کی پیروڈی

شادی رقیب نال وہ فرما کے رہ گئے
عاشق ترے مکان تک آ آ کے رہ گئے

پہلے تو عرض قرض پر جھنجھلا کے رہ گئے
پھر کچھ سمجھ کے سوچ کے ڈکرا کے رہ گئے

وہ کون ہے جو بلو کے گھر تک پہنچ سکا
جیلوں میں نوجوان نظر آ کے رہ گئے

نغموں پہ میرے اور تو کچھ بھی نہ کہہ سکے
سینڈل کی سمت ہاتھ وہ لے جا کے رہ گئے

ہر سانس انتقام محبت ہے اے ظفر
دلہا بنا کے جیتے جی دفنا کے رہ گئے

Advertisements