آپ فٹبال بنے توندِ گراں رکھتے ہوئے
ہم ہیں بے حال غمِ تاب و تواں رکھتے ہوئے

کیا عجب جا کے ادب سے اُسے آداب کہیں
ہم کسی بیل پہ سالے کا گماں کرتے ہوئے

چوٹ دل کی ترے سر پہ نہ کہیں آ جائے
عقد کا ذکر سرِ نوکِ زباں رکھتے ہوئے

کیا کہیں کیسی غلامی کا شغف رکھتے ہیں
کیوں نہتے ہوئے شمشیر و سناں رکھتے ہوئے

کس لئے حرفِ غلط سب کا گوارہ کرنا
یونہی شوہر نہ بنیں آپ زباں رکھتے ہوئے

آخرش دل نے ہی کر دینا ہے خود کش حملہ
کس کو حاصل ہے سکوں قضیہء جاں رکھتے ہوئے

اُس کو درکار حقیقت کے کلر ہیں ناحق
جو صحافی بھی ہے اور رنگِ بیاں رکھتے ہوئے

بات کرتے ہیں پلوشن کی نہایت کھُل کر
میرے چہرے پہ وہ سگریٹ کا دہواں رکھتے ہوئے

ہم بھی پردے کے مخالف تو نہیں ہیں لیکن
کوئی کیسے ہو نہاں حُسنِ عیاں رکھتے ہوئے

کس لئے رہتے ہیں منتِ کش دیر و کعبہ
ہم بھٹکنے کے لئے شہرِ بُتاں رکھتے ہوئے

Advertisements