الف ۔۔۔۔۔۔۔۔ آفیشل گروپ ۔۔۔۔۔۔ ہفتہ وار فی البدیہہ طرحی مشاعرہ ۱۰۱
میں کہی گئی میری غزل

جب ترا ذکر کیا کرتی ہے
چاندنی بھید بنا کرتی ہے

جب ترا عکس پڑا کرتا ہے
آگ پانی میں لگا کرتی ہے

چاند بھی جھک کے اُسے دیکھتا ہے
وہ ہتھیلی جو دعا کرتی ہے

رنگ چہرے پہ بکھر جاتے ہیں
جب مرا نام سُنا کرتی ہے

تیری آنکھوں کی یہ سُرخی کیا کیا
میری آنکھوں میں لکھا کرتی ہے

کاٹ دیتی ہے ہوس پیڑوں کو
شاخ تو صرف دعا کرتی ہے

پھول ملتے ہیں جو آپس میں گلے
تیری تصویر بنا کرتی ہے

نوچ لیتے ہیں اُسے منظر سے
جب کلی پھول بنا کرتی ہے

رہبروں سے ہےخفا’ اب دیکھیں
میری آوارگی کیا کرتی ہے

ایسی راہوں پہ بنا ہوں پتھر
جو مجھے تجھ سے جدا کرتی ہے

مجھ کو جینے کا ہنر دے کر بھی
زندگی مار دیا کرتی ہے

Advertisements