فیس بُک میں انحراف ادبی فورم  کے ہفت روزہ طرحی فی البدیہہ مشاعرہ ، ۲۸ دسمبر ۲۰۱۲ میں مصرعہِ ثانی پر کہی گئی میری غزل کے چند اشعار

تمہیں رب نے مری خاطر اُتارا ہی نہیں تھا
مرے ڈل میں ترا کوئی شکارا ہی نہیں تھا

گدھا تو روز اول سے سمجھ رکھا تھا لیکن
مری خاطر میسر اُس کو چارہ ہی نہیں تھا

کوئی مجنوں کسی شیریں کو لے کر بھاگ جاتا
تری انگنائی میں ایسا کھلارا ہی نہیں تھا

مجھ ہی کو کان سے پکڑے ہوئے ہے میری شامت
کہ ہر شوہر کی خاطر تو نتارہ ہی نہیں تھا

عدو نےگو اُسے ہر موڑ پر دہوکہ دیا ہے
مگر میری طرح بے اعتبارا ہی نہیں تھا

ترے ابے سے تھانہ کیوں ملاتا پھر رہا ہوں
ترے نقشے میں جب میرا ہزارہ ہی نہیں تھا

محبت سے نہ مل پایا کوئی لمحہ خوشی کا
یہ ہوٹل تھا مگر اس سے ادھارا ہین نہیں تھا

"ڈبل شادی شدہ” ظالم رہا ہے زندگی میں
فقط وہ شخص سائنس کا کنواہ ہی نہیں تھا

بہت خدمت کا جذبہ موجزن تھا یُوں تو دل میں
الیکشن میں کھڑا ہونے کا یارا ہی نہیں تھا

دسمبر جا رہا ہے جا رہا ہے جا رہا ہے
مجھے تو نظم پر اس نے ابھارا ہی نہیں تھا

کچھ ایسے عشق کے بارے میں بھی ارشاد کیجے
تُو چھ بچوں ماں  تھی’ میں کنوارا ہی نہیں تھا

طبیعت صاف یوں کر دی تھی ہمسایوں نے آکر
پھر اس کے بعد اُس نے کچھ ملہارا ہی نہیں تھا

کچھ ایسے شعر بھی سرزد ہوئے تھے دوستوں سے
حلق سے سننے والوں نے اُتارا ہی نہیں تھا

وہ دیواریں بنانا چاہتا تھا دوریوں کی
مگر جذبات کا سیمنٹ یا گارا ہی نہیں تھا

ہمیں رخصت طلب تھے لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے
تری جانب سے تو کوئی اشارہ ہی نہیں تھا

بُلایا تھا ہمیں اک بھانڈ کے بخشے لقب سے
ہمارے نام سے ہم کو پکارا ہی تھا

ظفر جو چاپلوسوں میں ہے وہ کمیوں میں کب ہے
سو میں ہرباس کی آنکھوں کا تارا ہی نہیں تھا

Advertisements