تاڑووں نے بھی جہاں حشر اُٹھا رکھا ہے
تیرے جلووں نے بھی بازار پخا رکھا ہے

سُورما ایسا کہ چوہا بھی اسے دہلا دے
اور مونچھوں کو ملیٹینٹ بنا رکھا ہے

وین والوں نے یُوں ٹھونسے ہیں مسافر‘ ہائے
گویا فرقِ من و تُو کو ہی بھلا رکھا ہے

جس کے دیکھے سے ہی اُبکائی ہمیں آ جائے
نام کس چیز کا ظالم نے دوا رکھا ہے

عدلیہ اور سیاست نے تو ہر آئے دن
اک نیا شوشہ پئے خلقِ خدا رکھا ہے

ایسا ابلیس کا پٹھا بھی نہیں انٹرنیٹ
یار لوگوں نے اسے کر کے بُرا رکھا ہے

کس قدر شوقِ زراعت تھا ترے عاشق کو
اُس نے سرسوں کو ہتھیلی پہ جما رکھا ہے

دودھ بھی ڈیموکریسی کا بمشکل دہویا
اور رکھوالی پہ بلوں کو بٹھا رکھا ہے

سُن رہا ہوں میں عطا اللہ کے گانے کب سے
"غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے”

Advertisements