اردو لٹریری فورم کے ہفتہ وار فی البدیہہ طرحی مشاعرہ نمبر ۹۹ بتاریخ ۱۵ دسمبر ۲۰۱۲ کے لئے میری غزل کے چند اشعار

کاش اب کے تیرے میرے درمیاں کوئی نہ ہو
تیرا عاشق’ میرے چھ بچوں کی ماں’ کوئی نہ ہو

حسن والوں میں ہمارے چہچہے جاری رہیں
سامنے بیگم کے ہم سا بے زباں کوئی نہ ہو

کس لئے ویزوں کی دیواریں کھڑی ہیں ہر طرف
"رہئے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو”

لوگ پھٹکاریں فضا آلودہ کرنے پر اُسے
میں پیوں تو میری سگریٹ کا دہواں کوئی نہ ہو

تھوپ کر ویسے تو آیا  ہوں یہاں پولی کلر
اُن کی محفل میں مگر مجھ سا جواں کوئی نہ ہو

سب نشانے باز اُن سے سر کھجاتے ہی رہیں
تیر سب کے ہاتھ میں ہوں اور کماں کوئی نہ ہو

میں سبھی کے گھر میں جا کر ذائقے چکھتا پھروں
ہاں مگرمہمان ہرگز میرے ہاں کوئی نہ ہو

کس لئے ہمسائے کی اینٹیں چراکر لائیں ہم
جب زمیں تقدیر میں بہرِ مکاں کوئی نہ ہو

غیر ممکن ہے پٹھان آپس میں مل جائیں کہیں
اور باہم اُن میں پشتو کا بیاں کوئی نہ ہو

راہزن ٹکرے نہ کوئی پُلسیا متھے لگے
رات سڑکوں پر پئے آوارگاں کوئی نہ ہو

سارے یہ سمجھیں کہ گاتا ہوں عطا اللہ کا گیت
کوسنے اُردو میں دوں اور ہم زباں کوئی نہ ہو

Advertisements