لگائے بیٹھے تھے ہم پر وہ بین کیا کرتے
ہم اُن سے عرضِ غمِ دل اگین کیا کرتے

ہمارا خونِ تمنا تھا اُن کے ہونٹوں پر
قرار دے کے عزیزم کو ڈین کیا کرتے

وہ گر پڑے تو ہمیں بس پکارتے ہی رہے
ہمارے پاس نہیں تھی کرین کیا کرتے

الف تا یے تھا سبھی پر تمہارا لطف و کرم
گلہ نہ کرتے تو پھر عین غین کیا کرتے

دُرست کر تو لیا ہم نے اپنا آئندہ
مگر جو لاس رہا اُس کو گین کیا کرتے

ہم اپنی غیرتِ ملی تو رکھ چکے گروی
برین کو بھی سپردِ ڈرین کیا کرتے

کلوز تھے تری انگنائی کے شفا خانے
تمام رات رہا دل میں پین کیا کرتے

نہ بن سکے کسی جلوے کے کارٹون کبھی
اگرچہ دل کا ورق تھا پلین کیا  کرتے

رقیب کے لئے رستہ تو صاف ہونا تھا
نکل گئی تھی ظفر کی ٹرین کیا کرتے

Advertisements