انحراف ادبی فورم کے فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ ۷ دسمبر ۲۰۱۲ کے لئے میری غزل کے چند اشعار

اپنی ہر شامتِ اعمال سے الفت  کی ہے
بات کچھ اور نہیں بات بس عادت کی ہے

میری لایعنیاں بھی لوگ سمجھ جاتے تھے
بات بگڑی ہے جہاں اُس نے وضاحت کی ہے

ڈاکٹر جی نے مجھے آج لکھی ہے چٹھی
ان کے پاؤں نے مرے واسطے زحمت کی ہے

میں نے دیکھے ہیں بہت سارے گھروں کے منظر
بادشاہی تو مری جان بس عورت کی ہے

کچھ کہا تو ہے الیکش کی ایمرجنسی میں
ہاں مگر یاد نہیں کس کی مذمت کی ہے

عمرو عیار کی زنبیل سہی توند مری
مجھ کو دعوت پہ بلایا ہے تو شرکت کی ہے

لیڈروں نے جو کہا ہے وہ دکھایا کر کے
جب بھی خدمت کے لئے آئے حجامت کی ہے

ہر میاں لگتا ہے مظلوم سی بیوہ کی طرح
زندگی کی ہے یا پوری کوئی عدت کی ہے

آٹھ بچوں کی کوئی فوج لئے پھرتے ہیں
عشق فرمایا ہے حضرت یا  مشقت کی ہے

لکھ پتی تھا پہ مقدمے میں الجھ بیٹھا تھا
اور اب وہ ہے مری جس نے وکالت کی ہے

یوں اڑنگی کوئی دے کر مجھے خوش بیٹھا ہے
یہ سمجھتا ہے کہ ظالم نے عبادت کی ہے

ٹنڈ کروا کے مری چارہ گری کی اُس نے
دور یوں ہاتھ کی کھجلی کی شکایت کی ہے

میں نے تو اُن کو بلایا تھا سرِ عقد ظفر
جانے کیا سوچ کے یاروں نے عیادت کی ہے

Advertisements