تیرا ارماں مرے دل کا حصہ ہوا
گویا گرداب ساحل کا حصہ ہوا

میں تو بہراماں جس جگہ بھی رُکا
آخرش کوئے قاتل کا حصہ ہوا

ایک مدت سے ہوں آبلہ پا جہاں
اب وہی میری منزل کا حصہ ہوا

دشت گردوں کی مٹی بکھرنے لگی
کوئی طوفان محمل کا حصہ ہوا

کل تھا میں جس مصیبت میں تنہا ظفر
شہر والوں کی مشکل کا حصہ ہوا

Advertisements