(احمد فراز مرحوم کی ایک معروف غزل کی پیروڈی )

یوں ڈھیٹ اور زیادہ کہیں نہ ہو جائیں
سو بِن بلائے کی دعوت سےاب چلو جائیں

کہاں ہیں صید کہ جو فائلوں کے پیچھے تھے
کوئی پکارو کہ ہم بھی کسی کو چو جائیں

جہاز سر سے گزرنے تھے وہ تو گزریں گے
مگر یہ آپ کو کھنگ کیوں ہے‘ آپ تو جائیں

الجھنا ہے ترے سودائیوں نے شادی میں
یہ سادہ لوح بھی پاگل کہیں نہ ہو جائیں

ہماری بیوی کو بابل کی یاد آئی ہے
چلو کہ مقتل سسرال دوستو جائیں

یہ گھر کی کُنڈی تو کھلتی نظر نہیں آتی
یہیں تھڑے پہ ہی آؤ نوید سو جائیں

Advertisements