(فیس بُک کےانحراف لٹریری گروپ کے زیرِاہتمام 16 نومبر 2012 کی شب منعقد کردہ فی البدیہہ طرحی مشاعرے میں کہے گئے چند اشعار)

میرے اندر ایک جزیرہ مٹی کا
مجھ کو کر ڈالے گا حصہ مٹی کا

دیکھیں کب تک خود کو میں پہچان سکوں
رقصاں آنگن میں ہے بگولہ مٹی کا

جن کو وقت نے زندہ رکھا’ زندہ ہیں
تھا تو ہر انسان پہ دعویٰ مٹی کا

چوس لیا اسفنج کی صورت دریا کو
پیاسا ہو گاکتنا پُتلا مٹی کا

پوچھے کوئی تو مٹی کے پتلوں سے
کس نے کتنا قرض اُتارا مٹی کا

دور کنارے پر چلاتی تھی دنیا
اور سفینہ ڈوب رہا تھا مٹی کا

جب مٹی کی کوکھ سے پھوٹے ہیں مورکھ
پیڑوں پر کیوں رنگ نہ آیا مٹی کا

میں نے کیا کرنا ہے چاند ستاروں کو
کافی ہے بس ایک دلاسہ مٹی کا

چوم رہی تھیں لہریں چاروں جانب سے
پانی پر اِک پھول کھلا تھا مٹی کا

میں بھی اپنے گھر کی خاطر لے آیا
دامن میں بھر بھر کے اجالا مٹی کا

کب سے اڑانِ لاحاصل کی ٹھانی ہے
بھول گیا ہے مجھ کو قصہ مٹی کا

ہم تم اک اندھے سیلاب کی زد میں ہیں
یہ دنیا ہے جیسے دریا مٹی کا

مجھ کو بھی جیون کے سفر نے توڑ دیا
“کردو مرا تیار بچھونا مٹی کا”

اب میں ہوں اور میرا دیدہء حیراں
کب لگتا تھا وہ آئینہ مٹی کا

Advertisements