ہم وکیلوں کو سمجھتے ہیں سجن ہیں اپنے
اور شیطان یہ کہتا ہے کزن ہیں اپنے

یونہی سسرال میں چُر مُر سے بنے ہیں ورنہ
حوصلے آج بھی دندان شکن ہیں اپنے

ہم بھی نالاں ہیں زباں سے کہ پھسل جاتی ہے
ناگوار اُن کو بھی بیساختہ پن ہیں اپنے

آگ یہ کس کی سیاست نے لگا رکھی ہے
آج لیڈر تو سبھی غنچہ دہن ہیں اپنے

اب صحافت میں کمائی ہے اِسی کے باعث
سُرخیاں سب کی ہیں پر اس میں متن ہیں اپنے

یہ بھی سچ ہے کہ پلاننگ کے ہیں قائل یارو !
اور بچے بھی فقط ایک ڈزن ہیں اپنے

کل بھی پابندِ سلاسل تھے تری یادوں میں
آج بھی دل کی عدالت سے سمن ہیں اپنے

دال خوری پہ مری خندہ زنی کرتا رہ !!
تیری ہنڈیا میں مگر اب بھی چکن ہیں اپنے

ہجو جن کی ہے وہی داد بھی دیتے ہیں ظفر
جتنے اشعار پئے بزمِ سخن ہیں اپنے

Advertisements