(گلکاریاں ادبی گروپ کے ہفت روزہ فی البدیہہ طرحی  مشاعرے بروز اتوار 11 نومبر 2012 میں کہی گئی میری غزل کے چند اشعار)

اُترتا ہے جو بالوں سے خضاب آہستہ آہستہ
تو کھُلتا ہے زمانے پر شباب آہستہ آہستہ

بلاوا جب کبھی سسرال سے آتا ہے بیگم کو
تو پھر ہم پر بھی آتا ہے عذاب آہستہ آہستہ

بھٹکتی جارہی ہیں بزم میں اپنی بھی کن انکھیاں
"سرکتا جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ”

ذرا کھلنے تو دو اُن پر ہمارے بینک بیلنس کو
بدلنا ہے محبت کا نصاب آہستہ آہستہ

نہیں آتی عوام الناس جلسے میں تو نہ آئے
وہ کر لیں کرسیوں سے ہی خطاب آہستہ آہستہ

اُنہیں کھانے سے بھی کچھ عدل والا کام کرنا ہے
چنانچہ دے رہے ہیں وہ جواب آہستہ آہستہ

ابھی نیندیں اُڑاتا ہے کوئی اہلِ محلہ کی
چلانا سیکھ جائے گا رباب آہستہ آہستہ

لگی رہتی ہے ہر دم آپ کو یہ آگ سی کیسی
حضور آہستہ آہستہ ! جناب آہستہ آہستہ !!

ظفر دیکھوں گا میں بزمِ سخن میں کون رہتا ہے
اتاروں گا میں جب اپنی جراب آہستہ آہستہ

Advertisements