(شباب کیرانوی مرحوم کی ایک معروف غزل کی پیروڈی )

اللہ تری شان یہ اپنوں کی ادا ہے
ہوٹل میں ہمیں دیکھ کے منہ پھیر لیا ہے

مرنا ہی مقدر ہے تو شادی کی سزا کیوں؟
کس جرم کی نادان سزا کاٹ رہا ہے

ہر چند کہ اک قصہء تازہ ہے مری ساس
بوتھے پہ مگر آج ہی چانٹا سا پڑا ہے

دھننے کی ہے ترکیب لبِ نہر بُلا کر
سالا یہ سمجھتا ہے وہی جیسے خدا ہے

اس طرح تو سسرال بھی ٹھینگے پہ دھرے گا
چہرے سے ہی مسکین نظر آنے لگا ہے

کہتے ہو جسے دوست بچو اُس کے کرم سے
ہر روز نیا قرض وہ ٹھگنے پہ تُلا ہے

آداب بجا لاتے تھے ہم مل کے‘ ہوا کیا؟
کیوں موڈ ترے ویر کا امریکا بنا ہے

Advertisements