(الف لٹریری فورم کے ہفتہ وار فی البدیہہ طرحی مشاعرے بتاریخ 03 نومبر 2012 بروز ہفتہ کی شب کے لئے کہی گئی غزل)

دیکھ کر لوٹا کہیں رکھا ہوا
کس سیاستدان کا دہوکہ ہوا

جو نہ کہنا تھا وہی ہم کہہ گئے
جو نہ ہونا تھا وہی گویا ہوا

کیوں رقیبوں سے ہوئے شیر و شکر
مجھ کو کس ہینگر پہ ہے ٹنگا ہوا

تیرے ویروں سے پٹے میرے رقیب
میں بھی تیرےباپ کا ڈنگا ہوا

وہ بھی پورا ساکنِ پختونخواہ
مغز میرا بھی ہے کچھ گھوما ہوا

کیوں نہ دولتی پڑے تقدیر کو
جب وطن کا ہر گدھا گھوڑا ہوا

جس نے سب کے واسطے کھودے گڑھے
یُوں ہوا کہ پھر وہ خود لاڑا ہوا

ہر کسی کو آگئی دنیا گری
ہر کوئی پرزہ بنا چلتا ہوا

بونگیوں پر بھی مری واہ واہ ہوئی
جب سرِ بزمِ سخن گویا ہوا

اپنی بدنامی بھی یوں خوش آگئی
مجھ کو رسوا کر کے وہ گندا ہوا

جس نے مجھ کو خاک چٹوائی بہت
خود بھی نہ اچھا ہوا اچھا ہوا

میں تھا جس کی چاندماری کا ہدف
اب نشانے پر ہے خود آیا ہوا

حسبِ وعدہ ڈیٹ پر آتا نہ تھا
آ گیا سیلاب میں بہتا ہوا

دشمنوں کو گھورتا ہوں بےوجہ
یار لوگوں کا ہوں میں ڈنگا ہوا

جب سے اس کی ٹنڈ چمکی ہے ظفر
تب سے اُس کی جیب میں کنگا ہوا

Advertisements