یونہی اپنوں سے پردہ نہ کر ہم نشیں
تیرا چہرہ ہے چوری کا ساماں نہیں

کھو گئی میری عینک سو اب کیا کہوں
چاند دمکا ہے یا ٹنڈ تا بہ جبیں

جو ہے قبضہ گروپوں کے ہاتھوں میں ہے
نہ ترا آسماں ہے نہ میری زمیں

ہم کو کیچڑ میں لت پت اُنہیں نے کیا
جو دکھاتے رہے خوابِ خلدِ بریں

تیل ایسا نکالا کہ توبہ بھلی
ہم کو جن لیڈروں پر رہا ہے یقیں

لوڈ شیڈنگ کی ظلمت میں گُم ہو گئے
اب کہاں کے مکاں اور کیسے مکیں

یُوں زباں پر وظیفہ تو ہے رام کا
خنجروں سے بھری ہے مگر آستیں

قتل ہوتا ہوں بِل دیکھ کر چارہ گر !
اب کہاں جاؤں لے کر یہ جانِ حزیں

بیچ کر ہم کو کوئی روانہ ہوا
ہم کہ بقراط بنتے تھے اپنے تئیں

یوں سمجھ لیں مرا گھر ہی سسرال ہے
ہائے کیا سوچ کر بس گئے تھے قریں

ہوں گے تحسینِ باہم کے قائل ظفر
جن کے شعروں پہ کہتا رہا آفریں

Advertisements