کسی نے کبھی کہا ہے کہ بچوں میں سب سے بڑی خرابی یہی ہوتی ہے کہ وہ بڑے ہو جاتے ہیں اور ماؤں کے لئے پریشانی کا سبب بن جاتے ہیں ۔جناب فیض احمد فیض اپنی ایک ترجمہ کردہ نظم ” داغستانی خاتون اور شاعر بیٹا” میں رقمطراز ہیں۔

اُس نے جب بولنا نہ سیکھا تھا
اُس کی ہر بات میں سمجھتی تھی
اب وہ شاعر بنا ہے نامِ خدا
لیکن افسوس کوئی بات اس کی
میرے پلے ذرا نہیں پڑتی

بچے روزِ پیدائش سے ہی بین الاقوامیت کے پیروکار ہوتے ہیں۔ جب کوئی بچہ بولنے لگتا ہےتو اگر پاکستان میں ہو تو کہا جاتا ہے کہ فارسی بول رہا ہے۔ ایران والے کہتے ہیں کہ فرانسیسی بول رہا ہے۔ فرانسیسی اور انگریز کہتے ہیں کہ یونانی بول رہا ہے جبکہ یونانی کہتے ہیں کہ عبرانی بول رہا ہے اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے۔
بچوں کی بولی سب سے بہتر ان کی مائیں ہی سمجھتی ہیں۔ مثلاً میری بہن نے ایک بار بڑے پرجوش انداز میں مجھے بتایا کہ اُس کے نو مہینے کے بیٹے نے مجھے "ماموں” کہا ہے۔ مجھے یقین نہ آیا اور خود تصدیق کرنا چاہی۔ بچے سے پوچھا گیا کہ یہ کون؟ بچے نے بڑی سنجیدگی سے کچھ کہا۔ اُس کی ماں نے میری طرف بڑے فخر سے دیکھا۔ میری تو سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ میں نے پھر پوچھا ۔۔۔۔ بچے نے پھر وہی کچھ کہا ۔۔۔۔ اُس کی ماں بولی ” دیکھا ۔۔۔۔ ماموں کہا ہے ناں ۔۔۔۔ میں نے بیچارگی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میری سمجھ میں تو یہی آیا تھا کہ بچہ مجھے "فٹے منہ” کہہ رہا ہے۔
بچے جب کوئی بات کہتے ہیں تو اُس میں منطق آپ کو خود ڈہونڈنی پڑتی ہے۔ ایک بار میں نے اپنی ننھی منی بچی کو دیکھا کہ وہ ایک موٹی سی کتاب(غالباً ٹیلیفون ڈائریکٹری تھی) اُٹھائے مطالعے میں غرق تھی۔ میں نے پوچھا "حفصی بیٹی کیا کر رہی ہے؟”
بولی ۔۔۔۔ تاب پل لئی اوں (حیرت ہے آپ کو نظر نہیں آتا ؟ اپنے چشمے کا نمبر درست کروائیں)
میں پھر بولا ۔۔۔۔ کتنی پڑھ لی ہے کتاب؟
جواب ملا ۔۔۔۔ اتی (اِتنی)
میں نے اُس کی طرف دیکھا کہ شائد اتنی کی نشاندھی بھی کی ہو لیکن وہ "تھوڑے لکھے کو بہت سمجھو” کی تفسیر بنی تھی۔
میں نے جتنی مرتبہ پوچھا، یہی جواب آیا۔
لیکن ایسا نہیں ہے کہ تمام بچوں کی لسانیات منطق سے عاری ہوتی ہے۔ بعض بچے بڑے منطقی انداز میں بات کرتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ ماہرینِ لسانیات کو اُنہیں کے حوالے سے صحتِ لفظی پر از سرِ نو غور کر لینا چاہئے۔ مثلاً میرا بیٹا چڑیا کو چُوڑیا کہا کرتا ہے ۔ میں نے کئی مرتبہ اُس کی تصیح کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہو سکا۔صاحبزادے آگے سے نہایت معصومیت لیکن قطعیت سے فرماتے ہیں کہ ” پپا ! وہ چُوں چُوں کرتی ہے ۔۔۔چِی چِی نہیں !!
یہی نہیں ۔۔۔ موصوف کئی دوسرے جانوروں پر بھی اِسی منطق کا اطلاق فرماتے ہیں ۔۔۔۔چونکہ بکریاں میں میں کرتی ہیں اِسی لئے وہ بکریوں کو "میمی” کا لقب عنایت فرماتے ہیں ۔قران شریف پڑھتے ہوئے”سورۃ البقرہ” کو "سورۃ میمی” پڑھتے ہیں۔ڈانٹ کا بھی اُن پر قطعا کوئی اثر نہیں ہوتا۔حق بات کرنے سے مطلق نہیں چوکتے۔
بعض اوقات بڑے بچوں سے زیادتی بھی کرجاتے ہیں اور اُن کی بولی کو جان بوجھ کرنہیں سمجھتے۔ ہمارے کرائےدار کی ایک بیٹی تھی جسے پیار سے "سونیا” کہا جاتا تھا۔ وہ جب ہمارے گھر آتی تھی تو ہم جان بوجھ کر پوچھتے تھے ۔۔۔ آپ کا نام کیا ہے؟
وہ کہتی ۔۔۔۔”چھونیا”
ہم کہتے ۔۔۔۔چھونیا؟
وہ سر کو نفی میں ہلاتے ہوئے کہتی ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ چھونیا
ہم کہتے ۔۔۔۔ وہی تو کہہ رہا ہوں ۔۔۔ چھونیا
وہ پھر زور دے کر کہتی ۔۔۔۔چھونیا نہیں ۔۔۔ چھونیا !!
اور یہ سلسلہ جاری رہتا۔
بچوں سے ہمکلامی کے شوق میں ہم اکثر یوں تُتلا کر بولتے ہیں کہ کوئی سنے تو کسی ماہرِ نفسیات سے ملنے کی تلقین کرے۔ بچے ظاہر ہے کہ ہمیں سے سیکھتے ہیں چنانچہ وہ ہمارے کہے کو لسانی معیار سمجھ کر اُسی کی پیروی کرتے ہیں ۔ ہمارے ایک دوست کا بیٹا خاصا بڑا ہو گیا ہے لیکن اکثر الفاظ کو صیح تلفظ کے ساتھ ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ایک مرتبہ میں نے اُسے ٹوکتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ بیٹا ! یُوں نہیں کہتے، یہ جو آپ نے پہنے ہوئے ہیں یہ” کپڑے” ہیں "پکڑے” نہیں۔
اُس نے میری بات بڑے غور سے سُنی اور پھر بولا ۔۔۔۔ لیکن انکل میرے پپا تو اِنہیں پکڑے ہی کہتے ہیں۔ میں نے تفتیش کی تو پتہ چلا کہ ہمارے دوست بات چیت کے معاملے میں بچوں کو اُسی کی سطح پر آکر ملتے ہیں، چونکہ اُن کا بیٹا پہلے کپڑوں کو پکڑے کہا کرتا تھا اس لئے وہ بھی یونہی بولتے تھے اب وہ اپنے بیٹے کی اصلاعِ لفظی کرنا چاہتے ہیں لیکن "پکڑے” کا لفظ اب اُس کی زبان سے چھوٹتا ہی نہیں۔
Advertisements