تم جو باس کو کہتے ہو وہ ہم بھی اکثر کہتے ہیں
دل میں "گالاں کڈھتے” ہیں اور منہ پر "سرسر” کہتے ہیں

آرڈر ہے "بگ باس کا‘ جیسا ہے‘ تعمیل تو کرنی ہے
ہم کم رتبہ لوگ کیوں دل میں "ہچر مچر” کہتے ہیں

اتنا مت اینٹھو اپنی تدبیروں کی "پرفیکشن” پر
اکثر اپنا کام دکھا جاتا ہے  مقدر‘ کہتے ہیں

گالی کو جو وردِ زباں کر لیتے ہیں وہ مت بھولیں
بیٹا اس کو دہراتا ہے باپ سے بڑھ کر‘ کہتے ہیں

کوئی جو ہم سے الجھے تو ہم "کن ٹُٹوں” سے بڑھ کر ہیں
یوں تو کہنے کو ہم اپنے آپ کو "سوبر” کہتے ہیں

جن جن کو تم محفل محفل "اسٹوپڈ” گردانتے ہو
تم کو کیا معلوم کہ وہ بھی تم کو ڈنگر کہتے ہیں

ٹھور زباں کی ضربیں سیدھی دل پر جا کر لگتی ہیں
تم الفاظ سمجھتے ہو ہم لوگ تو ہنٹر کہتے ہیں

تم خاتون کی شادابی کے باعث رشتہ مت بدلو
پہلو میں جو چُر مُر شے ہے‘ اس کو شوہر کہتے ہیں

تم کس ذعم میں اُس کے پیچھے سارے شہر میں پھرتے ہو
سچ پوچھو تو لوگ تمہیں خاتون کا شوفر کہتے ہیں

قطرینہ نے ان کو اک بے مایہ کیڑا پایا ہے
جانے سام جی کس برتے پر خود کو سُپر کہتے ہیں

وہ جو تم کو مس کالوں کی نوک پہ ہر دم دھرتے ہیں
تم اُن کو پروانے کہہ لو ہم تو مچھر کہتے ہیں

Advertisements